2017

ہے عبث ہند میں، انسان کا انساں ہونا - غزل - نون میم

طرحی غزل

کبھی مایوس ، کبھی تیرا پریشاں ہونا
مجھ سے ملنے کے لئے دل کا وہ خواہاں ہونا

سارے عالم پہ ترے عشق کا افشاں ہونا
اور اس پر بھی مری جاں ترا خنداں ہونا

وہ کبھی روٹھنا، بے وجہ مری جاں مجھ سے
پھر اسی بات پہ تیرا وہ پشیماں ہونا

یاد آتا ہے ترا سجنا سنورنا اے صنم
دیکھ کر آئینے میں خود کو ہی حیراں ہونا

چھوڑ دیتا ہوں مقدر پہ میں انجام اپنا
"‌‌مجھ کو آتا نہیں بے وجہ پریشاں ہونا"

طعنے سن سن کے بھی، کرتے ہیں وطن سے الفت
اتنا آسان نہیں، ہندی مسلماں ہونا

گائے محفوظ ہے، محفوظ نہیں ہے انساں
ہے عبث ہند میں، انسان کا انساں ہونا

رب کو ہر حال میں خوش رکھنا، "مسلمانی"ہے
اتنا آسان نہیں، نوؔر مسلماں ہونا

کاوش: نون میم: نوؔرمحمد ابن بشیر
۱۲شوال المکرم ۱۲۰۱۷ / ۷ جولائی ۲۰۱۷ء


اور۔.... اک ہزل کا شعر۔۔۔
لینا پنگا ترے بھائی سے، کبھی کنبے سے
میرا وہ تیرے لئے دست و گریباں ہونا









تیرے بندے بتا کدھر جائیں - طرحی غزل

طرحی غزل 

میرے دل تو بتا کدھر جائیں
"اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں"

ماسوا در کے تیرے اے مولا
تیرے بندے بتا کدھر جائیں

آتشِ عشق میں جلیں اور پھر
ان فضاؤں میں ہم بکھر جائیں

کیسی پرواز؟ کیسی اونچائی؟
جب یہ پر  ہی مرے، کتر جائیں

کم سے کم اک جھلک ہی دکھلا دے
تیری گلیوں سے جب گزر جائیں

نؔور بس اک یہی تمنا ہے
نام لے لے کے تیرا مر جائیں

نون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر


دل آ گیا ہے تجھ پہ ترا ہی خمار ہے - طرحی غزل

طرحی غزل 
دل آ گیا ہے تجھ پہ ترا ہی خمار ہے
دل پہ اے یار میرا نہیں اختیار ہے

کس کا بتا اے دل مرے اب انتظار ہے
کس کے لئے یہ آنکھ مری  اشکبار ہے

کیچڑ نہ یوں اچھال تو کردار پر مرے
دامن ترا بھی یار مرے داغدار ہے

بدلا ہے اور نہ بدلے گا  اسلام کا اصول
بنیاد اس کی ٹھوس بہت پائدار ہے

نیت اگر ہو ٹھیک عمل نؔور ہر درست
ہر اک عمل کا اس پہ ہی دارومدار ہے

نون میم : نوؔرمحمد ابن بشیر

16 رجب المرجب 1438 ھ

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

تعمیر نیوز

اس بلاگ کی مذید تحاریر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Powered by Blogger.